وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ اگرچہ پاکستان کا عالمی گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، لیکن موسمیاتی خطرات کے معاملے میں پاکستان مسلسل دنیا کے شدید متاثرہ ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
برازیل کے شہر بیلیم میں جاری COP30 کے دوران ہائی لیول کلائمیٹ فنانس ڈائیلاگ سے خصوصی ویڈیو پیغام میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ موسمیاتی بحران صرف مالی وسائل کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک اہم عالمی انصاف کا معاملہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت دستیاب بین الاقوامی موسمیاتی مالی معاونت کا بڑا حصہ دراصل وہ قرضے ہیں جو تعلیم، صحت اور انسانی ترقی جیسے شعبوں کے لیے مختص تھے، مگر اب ان فنڈز کو ناگزیر طور پر قدرتی آفات سے نمٹنے میں استعمال کرنا پڑ رہا ہے، جس کے باعث طویل المدتی ترقیاتی اہداف سخت متاثر ہو رہے ہیں۔
ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان گرین ٹرانزیشن اور موسمیاتی لچک پر مبنی ترقی کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے اور اپنے نیشنل ڈیٹرمنڈ کنٹریبیوشنز پر عمل کر رہا ہے۔ تاہم ان کے مطابق ترقی پذیر ممالک کے لیے آگے بڑھنے میں عالمی شراکت داری اور منصفانہ مالی معاونت بنیادی شرط ہے۔











