نیویارک: عوامی طاقت کا مظاہرہ، زہران ممدانی نیویارک کے نئے میئر منتخب

نیویارک — امریکی شہر نیویارک میں میئر کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے زہران ممدانی نے اپنی جیت کو عوامی طاقت کی جیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں نے ثابت کردیا ہے کہ اختیار اب ان ہی کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی کامیابی کے ساتھ نیویارک میں موروثی سیاست کا دور ختم ہوچکا ہے۔ زہران ممدانی یکم جنوری کو میئر کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

کامیابی کے بعد اپنے پرجوش خطاب میں ممدانی نے کہا کہ محنت کش طبقے اور تارکینِ وطن نے تمام مشکلات کے باوجود تبدیلی کا خواب حقیقت میں بدل دیا ہے۔ ان کے بقول، “ہم نے دکھا دیا کہ مستقبل اب عوام کے ہاتھ میں ہے۔”

انہوں نے اس فتح کو نیویارک کے مزدوروں، نچلے طبقے اور ان تارکین وطن کے نام کیا جنہیں ماضی میں اقتدار سے ہمیشہ دور رکھا گیا۔ ممدانی کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عام شہری بھی فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ بنیں۔

زہران ممدانی نے کہا، “آج ہم نے موروثی سیاست کو دفن کردیا ہے۔ اب میں اینڈریو کومو کا نام نہیں لوں گا۔”

انہوں نے وعدہ کیا کہ ان کی حکومت ایک ایسا شہر تشکیل دے گی جہاں تعلیم اور صحت ہر شہری کی دسترس میں ہو، رہائشی اخراجات قابو میں رہیں اور عوام کی آواز براہِ راست حکومت تک پہنچے۔ ان کے مطابق، “نیویارک اب پورے امریکا کے لیے ایک نئی مثال بنے گا۔”

اپنے خطاب میں ممدانی نے مختلف کمیونٹیز — جن میں یمنی دکاندار، افریقی نژاد ٹیکسی ڈرائیور اور جنوبی ایشیائی تارکین وطن شامل ہیں — کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا، “یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ جب سیاست عوام کے احترام اور سچائی کے ساتھ کی جائے تو نئی قیادت جنم لیتی ہے۔”

انہوں نے اپنے وژن کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسا نیویارک چاہتے ہیں جہاں کرایہ داروں کے حقوق محفوظ ہوں، بس سروس مفت ہو اور ہر بچے کو معیاری تعلیم میسر آئے۔ ساتھ ہی انہوں نے کرپٹ مکان مالکان اور ٹیکس چوروں کے خلاف سخت اقدامات کا عندیہ دیا۔

تقریر کے دوران انہوں نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، “ڈونلڈ ٹرمپ! میں جانتا ہوں تم دیکھ رہے ہو — لہٰذا آواز بلند کرو!” جس پر مجمع جوش و خروش میں نعرے لگانے لگا۔

آخر میں ممدانی نے کہا کہ وہ ایک ایسا شہر بنانے کا عزم رکھتے ہیں جہاں مسلمانوں، یہودیوں، تارکین وطن اور تمام کمیونٹیز کے حقوق کا برابر تحفظ ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں