قبائلی اضلاع کے خیبر پختونخوا میں انضمام کو سات برس مکمل ہو چکے ہیں، تاہم جنوبی وزیرستان لوئر اور اپر میں تاحال ضلعی عدالتوں کا قیام عمل میں نہیں آ سکا۔ اس صورتحال کے باعث دونوں اضلاع کے شہریوں کو انصاف کے حصول کے لیے ضلع ٹانک کا رخ کرنا پڑتا ہے۔
جنوبی وزیرستان لوئر اور اپر سے ٹانک تک کا فاصلہ تقریباً 140 سے 170 کلومیٹر کے درمیان ہے، جو دشوار گزار پہاڑی راستوں پر مشتمل ہونے کے باعث سائلین کے لیے شدید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔
طویل سفر نہ صرف وقت طلب ہے بلکہ مالی اور جسمانی طور پر بھی عوام پر بوجھ بن چکا ہے۔
یہ مسئلہ صرف شہریوں تک محدود نہیں بلکہ پولیس کو بھی ہر پیشی پر ملزمان کو طویل فاصلے طے کر کے ٹانک کی عدالتوں میں پیش کرنا پڑتا ہے، جس سے وسائل کے ضیاع کے ساتھ سیکیورٹی خدشات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر کا کہنا ہے کہ ضلع میں عدالتوں کے قیام سے متعلق تجاویز متعلقہ حکام کو ارسال کر دی گئی ہیں۔
ان کے مطابق سیکیورٹی اور دیگر انتظامی امور کی منظوری کے بعد جنوبی وزیرستان لوئر میں ضلعی عدالتوں کے قیام کا عمل جلد مکمل کر لیا جائے گا۔











