پنجاب کی جانب سے ترسیل پابندی برقرار رہی تو رمضان میں آٹے کا شدید بحران پیدا ہونے کا خدشہ

فلور ملز مالکان نے خبردار کیا ہے کہ اگر پنجاب حکومت نے خیبر پختونخوا کو گندم اور آٹے کی ترسیل پر عائد پابندی فوری طور پر ختم نہ کی تو رمضان المبارک کے دوران آٹے کا بحران سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے اور قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے صوبائی چیئرمین نعیم بٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب نے گزشتہ سال اگست سے غیر قانونی طور پر گندم اور آٹے کی بین الصوبائی ترسیل پر پابندی عائد کر رکھی ہے، جس کے باعث خیبر پختونخوا میں گندم اور آٹے کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت 20 کلو آٹے کا تھیلا 3 ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ اگر پابندی برقرار رہی تو رمضان المبارک تک یہی تھیلا 4 ہزار روپے تک جا سکتا ہے۔ نعیم بٹ کا کہنا تھا کہ پنجاب پاکستان کی تقریباً 75 فیصد گندم پیدا کرتا ہے، اس لیے وہاں سے ترسیل کی بندش کا براہِ راست اثر دیگر صوبوں پر پڑ رہا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو مہنگائی سے بچانے اور ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے پنجاب حکومت فوری طور پر گندم اور آٹے کی ترسیل پر عائد پابندی ختم کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں