بدلتا موسم — بدلتی دنیا

محمد سلیمان

دنیا اس وقت ایک ایسی تبدیلی کے دہانے پر کھڑی ہے جسے ہم چاہیں یا نہ چاہیں، قبول کرنا پڑے گا۔ موسمیاتی تبدیلی اب کوئی نظریہ، دعویٰ یا دور کا خطرہ نہیں رہا بلکہ ایک عملی حقیقت ہے جو ہماری روزمرہ زندگی سے لے کر عالمی نظام تک ہر چیز کو متاثر کر رہی ہے۔ کبھی ہم جن موسموں کو سال کے مخصوص حصوں سے منسلک سمجھتے تھے، آج وہ ترتیب بکھر چکی ہے۔

گزشتہ سالوں میں پاکستان نے قدرتی آفتوں کا جو سلسلہ دیکھا—شدید گرمی کی لہریں، بے وقت بارشیں، سیلاب، گلیشیئرز کا پگھلنا اور اب سردیوں کے آغاز میں برفانی تودے گرنے جیسے واقعات—یہ سب اس بات کی طرف اشارہ ہیں کہ فطرت نے انتباہ جاری کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر، ہنزہ میں اُلتر گلیشیئر کے ایک بڑے حصے کا اچانک گر جانا صرف ایک واقعہ نہیں، ایک پیغام ہے۔ گلیشیئرز جو کبھی ہزاروں سال میں بدلتے تھے، آج چند دہائیوں میں اپنی شکل کھو رہے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ انسان کا اپنا رویہ ہے۔ صنعتی فضاؤں سے اٹھتا دھواں، جنگلات کی بے دریغ کٹائی، ایندھن کا بے تحاشا استعمال اور بے ہنگم ترقی، فطرت پر وہ بوجھ ڈال رہی ہے جس کی برداشت کی کوئی حد ہے۔ ہم نے زمین سے اتنا کچھ لے لیا کہ اب وہ تھک چکی ہے، اور اپنے ردِعمل کا اظہار کبھی شدید گرمی، کبھی غیر معمولی بارشوں اور کبھی گلیشیئرز کے پگھلنے کی صورت میں کر رہی ہے۔

اصل چیلنج یہ ہے کہ ہم اب بھی یہ سمجھنے کو تیار نہیں کہ یہ مسئلہ صرف حکومتوں، اداروں یا سائنس دانوں کا نہیں بلکہ ہر انسان کی ذمہ داری ہے۔ اگر دنیا کو سنبھالنا ہے تو طرزِ زندگی بدلنا ہوگا۔ توانائی کے استعمال میں احتیاط، درختوں کی افزائش، فضلے میں کمی، صاف ذرائع توانائی کی طرف قدم اور سب سے بڑھ کر اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینا—یہ سب اقدامات مشکل ضرور ہیں مگر ناممکن نہیں۔

ہمیں آج فیصلہ کرنا ہے کہ ہم آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور قابلِ رہائش زمین چھوڑنا چاہتے ہیں یا ایسی دنیا جہاں موسم، پانی اور خوراک سب غیر یقینی ہوں۔ موسمیاتی تبدیلی ایک چیلنج ضرور ہے مگر اگر انسان ذمہ داری قبول کرے تو یہ چیلنج ایک بہتر مستقبل کی طرف سمت بھی بن سکتا ہے۔

آخر میں سوال صرف اتنا ہے:
ہم کب جاگیں گے؟ اور کب سمجھیں گے کہ زمین بدل رہی ہے، اب ہمیں بھی بدلنا ہوگا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں