خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں غیر قانونی کان کنی کے خلاف جاری کارروائیوں کو مزید سخت کرتے ہوئے فرائض میں کوتاہی برتنے والے دو انتظامی افسران کو معطل کر دیا ہے۔
محکمہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق معطل ہونے والوں میں اسسٹنٹ کمشنر جہانگیرہ انیس الرحمن اور ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر تھری کوہاٹ انعم محمود شامل ہیں۔
سرکاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر جہانگیرہ اپنے علاقے میں غیر قانونی مائننگ کی سرگرمیوں کو روکنے میں مؤثر اقدامات نہ کر سکے، جس پر انہیں فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
اسی طرح ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر کوہاٹ کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی گئی، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے دائرہ اختیار میں مائننگ مافیا کے خلاف خاطر خواہ ایکشن نہیں لیا۔
اعلامیے کے مطابق دونوں افسران کے خلاف تادیبی کارروائی خیبر پختونخوا گورنمنٹ سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2011 کے تحت کی گئی ہے۔











