خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نمائندوں کا اسمبلی کے سامنے احتجاج، فنڈز اور اختیارات کی عدم فراہمی پر شدید تحفظات

خیبر پختونخوا کے منتخب بلدیاتی نمائندوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے فنڈز اور اختیارات نہ ملنے کے خلاف خیبر پختونخوا اسمبلی کے سامنے احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے چند گھنٹوں کے لیے مصروف خیبر روڈ کو بند رکھا، جس کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی، تاہم بعد میں مظاہرین پُرامن طور پر منتشر ہو گئے۔

احتجاج میں شریک پاکستان تحریک انصاف کے منتخب بلدیاتی نمائندے مالک فیصل نے کہا کہ بلدیاتی نمائندے گزشتہ چار برسوں سے مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اسمبلی اور اڈیالہ جیل کے سامنے بھی کئی بار مظاہرے کیے گئے، لیکن تاحال بلدیاتی اداروں کو ایک روپیہ بھی فنڈز فراہم نہیں کیے گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات اور مالی وسائل نہیں دیے جاتے تو بہتر ہے کہ آئینی ترمیم کے ذریعے بلدیاتی نظام ہی ختم کر دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2021 میں بلدیاتی انتخابات تو ہوئے، مگر چند ہی ماہ بعد بلدیاتی ایکٹ میں ترمیم کر کے اختیارات واپس لے لیے گئے، جس کے نتیجے میں بلدیاتی حکومتیں عملی طور پر غیر مؤثر ہو چکی ہیں۔

احتجاج کی قیادت مردان کے میئر حمایت اللہ مایار نے کی۔ انہوں نے کہا کہ منتخب بلدیاتی نمائندوں کے قیمتی چار سال ضائع ہو گئے، اور بار بار یقین دہانیوں کے باوجود نہ فنڈز فراہم کیے گئے اور نہ ہی اختیارات بحال کیے گئے۔

حمایت اللہ مایار کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے دانستہ طور پر بلدیاتی حکومتوں کو وسائل سے محروم رکھا، جس کے باعث یہ ادارے مالی مشکلات اور قرضوں کا شکار ہو گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ایک طرف وفاق سے اپنے بقایاجات کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب بلدیاتی حکومتوں کو ان کے جائز فنڈز دینے میں ناکام نظر آتی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ کسی بھی سیاسی جماعت نے بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا، اور اگر اختیارات اور وسائل فراہم نہ کیے گئے تو محض نام کا بلدیاتی نظام عوام کے کسی کام کا نہیں رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں