جنوبی وزیرستان اپر کی تحصیل تیارزہ کے مانتوئی علاقے میں بارودی سرنگ پھٹنے سے 12 سالہ بچہ موقع پر جاں بحق ہوگیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے بچے کا نام میاں دین بتایا گیا ہے جو پاروز اشنگی کا رہائشی تھا۔ میاں دین معمول کے مطابق بکریاں چرانے پہاڑی مقام پر گیا تھا جہاں زمین میں دبائی گئی بارودی سرنگ اس کے قدموں تلے پھٹ گئی۔
سانحے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مقامی سماجی رہنما شمس محسود نے کہا کہ اس واقعے نے پوری کمیونٹی کو گہرے رنج اور صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی مکمل اور منصفانہ تحقیقات کی جائیں۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ جنوبی وزیرستان اپر میں بارودی سرنگوں کے واقعات پہلے بھی کئی کمسن بچوں کی جان لے چکے ہیں۔
جون میں تحصیل شوال کے گاؤں رازین میں 13 سالہ بچی بارودی سرنگ کے دھماکے کی نذر ہوگئی تھی، جبکہ مارچ میں تحصیل لدھا میں 10 سالہ بچہ اسی نوعیت کے دھماکے میں جان سے گیا تھا۔
گزشتہ سال بھی حالات مختلف نہیں تھے۔ مئی 2024 میں تحصیل تیارزہ میں بارودی مواد پھٹنے سے 13 سالہ لڑکا بینائی سے محروم ہوگیا تھا، جبکہ تحصیل مکین میں اسی ماہ ایک اور دھماکے میں دو بچے زخمی ہوئے تھے۔











