اسلام آباد میں ایما خان کا احتجاج؛ موبی لنک بینک قیادت پر ہراسانی اور حبسِ بے جا کے سنگین الزامات

اسلام آباد۔ سابق سینئر ایگزیکٹو موبی لنک مائیکروفنانس بینک ایما خان نے اسلام آباد پریس کلب کے باہر احتجاج کرتے ہوئے اعلیٰ حکام اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور متعلقہ اداروں سے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ موبی لنک بینک کی قیادت جو Jazz اور VEON سے منسلک ہے کی جانب سے انہیں گزشتہ دو برسوں سے کام کی جگہ پر ہراسانی دباؤ غیر قانونی حراست دھمکیوں اور ادارہ جاتی ناانصافی کا سامنا رہا۔

ایما خان کے مطابق 14 جون 2024 کو عید سے قبل انہیں مبینہ طور پر بینک کے بعض اعلیٰ افسران کے احکامات پر دو گھنٹوں سے زائد حبس بے جا میں رکھا جبکہ ان کی شکایات پر شفاف تحقیقات کے بجائے متعلقہ افراد کو تحفظ دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے حبس بے جا میں رکھے گئے ملازمین نے بتایا کہ یہ سارا معاملہ اس وقت کے عبوری سی ای او حارث محمود چوہدری کے کہنا پر کیا جا رہا ہے۔

ایمہ خان نے کہا کہ متعدد بار انصاف کے لیے رابطوں کے باوجود نہ صرف ان کی آواز کو نظر انداز کیا گیا بلکہ انہیں قانونی دباؤ جھوٹے مقدمات اور بھاری ہتک عزت دعوؤں کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

ایمہ کے مطابق حبس بے جا کیس میں عدالت نے ایک کمیشن مقرر کیا تھا جس کے بنک عملے نے بدتمیزی کی تھی اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی فراہم نہیں کی جس کی تمام تفصیلات عدالتی کمیشن نے پندرہ صفحات پر مشتمل رپورٹ میں جاری کی ہیں۔

احتجاج کے دوران ایما خان نے مطالبہ کیا کہ معاملے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق اخلاقی حکمرانی اور محفوظ ورک پلیس کے دعوے کرنے والے اداروں میں ایسے الزامات انتہائی تشویشناک ہیں۔

انہوں نے چیف جسٹس وزیر اعظم پاکستان اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہیں انصاف اور تحفظ فراہم کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں