اسلام آبا د۔تحریک انصاف حکومت نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ایک منفرد اعزاز اپنے نام کررکھا ہے ۔
خیبر پختونخواہ کےا نتہائی پسماندہ شہر ڈیرہ اسماعیل خان جس کی آبادی تقریبا60 لاکھ سے زائد ہے وہاں صرف ایک ہی ڈی ایچ کیوسرکاری ہسپتال ہے جو اب ’’ریفر‘‘ ہسپتال کے نام جانا جاتا ہے ۔کیونکہ یہاں پر جو بھی مریض آتا ہے تو اسے فوری طور پر پنجاب کے ہسپتالوں میں ریفرکردیا جاتا ہے ۔
زیادہ تر مریضوں کو ملتان یا لاہور ریفرکیا جاتا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں کیسز ایسے رونما ہو رہے ہیں کہ ڈاکٹر مریض کو دیکھتے ہی اپنے قلم سے تحریر شروع کردیتے ہیں اور مریض کے لواحقین کو ایک کاغذ ٹکڑا تھما دیتے ہیں جس پر لکھا ہوتا ہے۔ ریفرٹو ملتان
تحریک انصاف کا ہمیشہ یہ دعوی رہا ہے کہ وہ اس ملک میں صحت اور تعلیم کو عالمی معیار کے مطابق شہریوں کو فراہم کریں گے لیکن 13 سال گزرنے کے باوجود ڈیرہ اسماعیل خان میں مریضوں کو علاج کرنے کے بجائے پنجاب کے ہسپتالوں میں ریفر کیا جارہا ہے جونہ صرف مریض بلکہ ان کے لواحقین کیلئے ایک اذیت کا باعث بن رہا ہے۔
ریفر کرنے والے ڈاکٹرز صاحبان حکومت سے لاکھوں روپے تنخواہوں کے ساتھ ساتھ ہر سہولیات لے رہے ہیں جو عام طور پر ڈاکٹروں کو رہائش ،پٹرول اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جاتی ہے ،المیہ یہ کہ ڈی ایچ کیوہسپتال جو ریفرہسپتال کے نام مشہورہے سالانہ کروڑوں کا فنڈز مہیا کیا جاتا ہے جو یقیناً کرپشن کی نذر ہو رہا ہے۔
خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کو 13سے زائد عرصہ گزر گیا ہے تاہم وہاں کوئی ترقیاتی کام ہوئے ہیں اور نہ ہی سکول و ہسپتالوں کی حالت تبدیل ہوئی ہے۔











