اسلام آباد(احمد نواز خان)قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن نے گرفتاریوں اور سیاسی رویّوں پر شدید احتجاج کیا۔ ایوان میں ریلوے حادثات، کمبوڈیا میں پاکستانیوں کی صورتحال، صحافیوں کے مسائل زیرِ بحث آئے جبکہ ایوان میں کچے کے ڈاکوئوں کی گونج سنائی دی گئی۔
جمعہ کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں شروع ہوا، وقفہ سوالات کے آغاز پر کورم کی نشاندہی کی گئی، جس پر کارروائی کچھ دیر کے لیے معطل رہی۔ کورم مکمل ہونے پر اجلاس دوبارہ شروع ہوا۔
اجلاس کے دوران بیرسٹر گوہر نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی آواز نہیں سنی جارہی اور ہمارے کارکنوں کو گھروں سے اٹھایا جارہا ہے۔
کمبوڈیا میں زیرِ حراست پاکستانیوں سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتایا کہ 631 افراد کو سفری دستاویزات فراہم کی جاچکی ہیں جبکہ چار پاکستانی کمبوڈیا میں جاں بحق ہوئے۔
اسلام آباد کے کالجز میں بی ایس پروگرامز میں داخل طلبہ کو درپیش مسائل پر بھی ایوان میں توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا گیا۔
نقطہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے اراکین نے کچے کے ڈاکوؤں، اغواء کے واقعات، خیبرپختونخوا میں لوڈشیڈنگ، اور متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی جیسے معاملات اٹھائے۔
صحافیوں کے مسائل پر شازیہ مری نے پریس گیلری سے واک آؤٹ اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا معاملہ اٹھایا جبکہ حکومت نے صحافیوں کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی جس کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا۔











